لاہور : اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ زرعی ٹیکس سمیت مالیاتی امور سے متعلق تمام فیصلے عوامی نمائندوں کی منظوری سے مشروط ہیں اور اس ضمن میں آئینی طریقہ کار کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے۔
سپیکر نے واضح کیا کہ زرعی ٹیکس کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ 90 فیصد سے زائد چھوٹے کسان اس کے دائرہ کار سے باہر رہیں گے۔ ملک احمد خان کے مطابق ٹیکس سے متعلق کوئی بھی تجویز ہو، اسے اسمبلی میں لانا لازمی ہے جہاں اکثریت کی بنیاد پر قانون سازی کی جاتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ قانون بنانا اسمبلی کا کام ہے، تاہم ٹیکس کی شرح (Rates) اور مختلف سلیبز کے تعین کا انتظامی اختیار حکومت اور کابینہ کے پاس ہوتا ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی کے لیے ایوان میں باقاعدہ ووٹنگ کا عمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں قانون سازی کا طریقہ کار انتہائی واضح ہے اور کوئی بھی فیصلہ شفافیت کے بغیر نہیں کیا جاتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیکر کا یہ بیان زرعی ٹیکس پر کسانوں اور اپوزیشن کے خدشات کو دور کرنے کی ایک کوشش ہے، جس میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ ٹیکس کا بوجھ صرف بڑے زمینداروں پر پڑے گا نہ کہ عام کاشتکار پر۔