پامی ہیلتھ کیئر ایکسیلنس ایوارڈز 2026: "سینٹرل انڈکشن نے میرٹ تباہ کر دیا، نجی اداروں کو آزاد چھوڑا جائے" پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن کا مطالبہ

پامی ہیلتھ کیئر ایکسیلنس ایوارڈز 2026:

ہیلتھ سیکٹر وزراء یا سیکرٹریز کے بجائے ان ماہرین کی بدولت چل رہا ہے،پروفیسرڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن   کلمہ حق کہنے کی طاقت رکھتے ہیں:صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر 

لاہور : پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹیٹیوشنز (PAMI) کے زیر اہتمام گورنر ہاؤس لاہور میں  'ہیلتھ کیئر ایکسیلنس ایوارڈ 2026' کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں شعبہ طب کی نامور شخصیات کو ان کی گراں قدر خدمات پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پامی پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن نے حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرٹ کے نام پر لائی گئی 'سینٹرل انڈکشن پالیسی' نے درحقیقت میرٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ نجی اداروں کے داخلے حکومت کیسے کر سکتی ہے؟ سرکار کو چاہیے کہ وہ صرف اپنے اداروں تک محدود رہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق بجٹ کا 6 فیصد صحت پر ہونا چاہیے، جبکہ ہم ڈھائی فیصد بھی خرچ نہیں کر رہے۔
 ملک کے 182 میڈیکل کالجز میں سے 118 نجی ہیں، اور نجی سیکٹر کے 40 ہزار بیڈز پر مریضوں کا مفت علاج بھی کیا جا رہا ہے۔ پی ایم ڈی سی (PMDC) کو سی پی ایس پی (CPSP) سے سیکھنا چاہیے، جس کا رویہ اپنے اداروں کے ساتھ ماں جیسا ہمدردانہ ہوتا ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ہیلتھ سیکٹر وزراء یا سیکرٹریز کے بجائے ان ماہرین کی بدولت چل رہا ہے۔
صدر سی پی ایس پی پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ نجی شعبے کی خدمات لائق تحسین ہیں اور ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن نے ماہرین کو ایوارڈز دے کر ایک تاریخی کام کیا ہے۔تقریب کے اختتام پر شعبہ صحت میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ہیروز کو مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز دیئے گئے۔ تقریب میں پروفیسر محمود ایاز سمیت دیگر اہم طبی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

ٹیگز: